تخت ملنے کی دعا

دارا شکوہ اور اورنگ زیب عالم گیر دونوں بھائی تھے۔ ان کی آپس میں اقتدار کی کشمکش تھی۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کی خواہش تھی کہ تخت و تاج مجھے ملے۔ داراشکوہ چاہتا تھا کہ میرا حق بنتاہے لہٰذا بادشاہ مجھے بننا چاہیےجب کہ اورنگ زیب عالم گیر مشائخ کی صحبت پا چکے تھے، اس لیے چاہتے تھے کہ اگر مجھے سلطنت کا انتظام مل جائے تو بدعات کا خاتمہ کرکے شریعت و سنت کی بالادستی قائم کر دوں گا۔داراشکوہ کو کسی نے بتایا کہ

فلاں جگہ پر ایک مستجاب الدعوات بزرگ رہتے ہیں۔ ان میں سے دعا کروائیں۔ جب وہ وہاں گئے تو اس بزرگ نے کھڑے ہو کر مصافحہ کیا اور بیٹھنے کے لیے اپنا مصلیٰ پیش کیا۔ داراشکوہ نے از راہ ادب کہا، نہیں جی میں اس قابل کہاں کہ اس جگہ بیٹھ سکوں۔ اگر انہوں نے بزرگوں کی صحبت پائی ہوتی تو سمجھتے کہ الامر فوق الادب کہ حکم کا درجہ ادب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس بزرگ نے پھر فرمایا کہ یہاں بیٹھ

جائو۔ مگر اس نے دوسری مرتبہ پھر کہا، حضرت! میں اس قابل کہاں؟ انہوں نے تیسری مرتبہ اصرار کیا کہ بیٹھئے، لیکن کہنے لگا، جی نہیں۔ آپ ہی بیٹھئے۔ جب وہ بیٹھ گئے تو داراشکوہ بھی ان کے سامنے بیٹھا۔ ان کی آپس میں بات چیت ہوتی رہی۔ پھر جب اٹھنے لگا تو کہا، حضرت! دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے تخت و تاج عطا فرما دیں۔ بزرگ فرمانے لگے کہ ہم نے مصلیٰ تو پیش کیا تھا، آپ خود ہی نہیں بیٹھے تو کیا کریں؟ اب تو وقت گزر چکا ہے۔ اسے بہت زیادہ افسوس ہوا۔ اب اس نے سوچا کہ کہیں اورنگ زیب عالم گیرؒ کو پتہ نہ چل جائے لہٰذا اس نے اس بات کو چھپائے رکھا۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ کچھ عرصہ کے بعد اورنگ زیب عالمگیرؒ کو بھی کسی نے بتا دیا کہ فلاں جگہ پر ایک مستجاب الدعوات بزرگ رہتے ہیں۔ آپ ان کے پاس جائیں۔

اورنگ زیب عالمگیر تو ویسے ہی اللہ والوں کے صحبت یافتہ اور صاحب نسبت تھے، چنانچہ وہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ جب وہاں پہنچے تو اس بزرگ نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور کہا جی آئیے، تشریف لائیے اور بیٹھئے۔ انہوں نے ازراہ ادب کہا۔ حضرت! میں اس قابل کہاں؟ انہوں نے فرمایا، نہیں نہیں بیٹھو۔ جب دوبارہ کہا کہ بیٹھو تو وہ ان کے مصلی پر بیٹھ گئے۔ بات چیت ہوتی رہی۔جب اٹھنے لگے تو انہوں نے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں شریعت و سنت کی بالادستی قائم کرنے کے لیے کام کروں۔ اس لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے تخت و تاج عطا فرما دیں۔ وہ بزرگ فرمانے لگے، کہ بھئی! تخت تو ہم تجھ کو پہلے ہی دے چکے ہیں۔ جب انہوں نے تخت کا نام لیا تو وہ پہچان گئے کہ اہل اللہ کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ معنی رکھتا ہے۔ لہٰذا کہنے لگے، حضرت! تخت تو مل گیا اور کیا تاج نہیں ملے گا؟ فرمایا، تاج کا نظام تو آپ کو وضو کروانے والے کے پاس ہے۔

تخت ملنے کی دعا .