روضہ رسول ﷺ کی کھڑکی

حدیث شریف میں آتا ہے کہ مدینہ شریف میں بارش نہیں برس رہی تھی قحط سالی پڑھ گئی تھی۔کچھ صحابی اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اماں جان کوئی ایسا وظیفہ کوئی ایسا امر بتائیں کہ قحط سالی ختم ہو جائے اور ابر رحمت برسنے لگے۔تو اُم المومنین رضی اللہ عنها نے فرمایا کہ

روضئہ رسولﷺ کی چھت پر جو روشندان یعنی کھڑکی رکھی گئی ہے اسے کھول دو۔جب روضئہ رسولﷺ کااور آسمان کا سامنہ ہوا تو خوب بارش برسنے لگی یہاں تک کہ لوگ دوبارہ ام المومنین ؓکی بارگاہ میں حاظر ہوئے اور بارش روکنے کے وظائف و تدابیر دریافت کرنے لگے۔تو اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها نے فرمایا کہ روضئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کھڑکی دوبارہ بند کر دو۔چنانچہ کھڑکی بند کرتے

ہی بارش تھم گئی۔(وہ حدیث شریف یہ ہے )ترجمہ : اوس بن عبد اللہ فرماتے ہیں ، اہل مدینہ شدید قحط میں مبتلا ہوگئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے یہ حالت بیان کی ، انہوں نے فرمایا : جاؤ قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر کی طرف سے تھوڑا سا کھول دو ، اس طرح کہ قبر اور آسمان کے درمیان کوئی چھت نہ ہو ، کہتے ہیں : لوگوں نے ایسا ہی کیا ، تو اللہ تعالی نے اتنی بارش نازل فرمائی کہ ہر طرف ہریالی پھیل گئی ، اونٹ اس قدر سیر ہوگئے کہ چربی کی وجہ سے ان کے جسمانی اعضاء الگ الگ نظر آنے لگے ، اس مناسبت سے اس سال کو ’ عام الفتق ‘ کا نام دیا گیا ۔

روضہ رسول ﷺ کی کھڑکی .